LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ: لاوارث اسٹوریج یونٹ سے نکلنے والی پینٹنگز نے نوجوان کو مالا مال کر دیا

News Image
امریکہ کے اٹھارہ سالہ نوجوان مائیکل ہاسکل نے ساڑھے چار سو ڈالر کا لاوارث اسٹوریج یونٹ خرید کر اپنی قسمت بدل ڈالی۔ اس یونٹ سے ملنے والی قیمتی پینٹنگز نے ان کے کاروبار کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے اپنے شوق کو ایک کامیاب کاروباری ادارے میں بدل ڈلیا ہے، جس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک انوکھی مثال قائم کی ہے۔ مائیکلز یونیک ٹریژرز کے نام سے کاروبار چلانے والے مائیکل ہاسکل نے حال ہی میں ایک لاوارث اسٹوریج یونٹ کی خریداری میں اپنی قسمت آزمائی، جو ان کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہوئی۔ مائیکل ہاسکل نے ابتدائی طور پر اس لاوارث اسٹوریج یونٹ کو حاصل کرنے کے لیے چار سو پچاس ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ جب انہوں نے اس یونٹ کے اندر موجود اشیاء کی چھان بین کی تو ان کے ہاتھ ایک ایسا خزانہ لگا جس کا انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ یونٹ کے اندر سے ملنے والی پینٹنگز کی مالیت کا جب ماہرین سے تخمینہ لگوایا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کی کل قیمت چھتیس ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔ اس غیر متوقع اور شاندار دریافت نے مائیکل کے چھوٹے سے کاروبار کو راتوں رات ایک مستحکم اور منافع بخش وینچر میں تبدیل کر دیا۔ اس ایک یونٹ کی کامیابی کے بعد نوجوان کاروباری شخصیت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور مسلسل نئی نیلامیوں میں حصہ لیتے رہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان کے اس انوکھے کاروبار کی مجموعی آمدنی اب دو لاکھ امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ اس حیرت انگیز کامیابی پر بات کرتے ہوئے مائیکل کا کہنا ہے کہ پرانی اور لاوارث چیزوں میں چھپے ہوئے رازوں کو تلاش کرنا ان کا دیرینہ شوق رہا ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر لگن، محنت اور تھوڑا سا حوصلہ ہو تو معمولی سرمایہ کاری سے بھی بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی اس کہانی نے سوشل میڈیا پر بھی دھوم مچا دی ہے اور نوجوان نسل کو اپنے بل بوتے پر کچھ نیا کرنے کی ترغیب دی ہے۔