LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بے روزگاری: اے آئی کے بانی کا اہم انتباہ

News Image
مصنوعی ذہانت کے بانی نے پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے باعث بڑے پیمانے پر بے روزگاری جنم لے سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ ایلون مسک اور دیگر ارب پتی حضرات روزگار کے مستقبل کے بارے میں درست سوچ رکھتے ہیں۔
سلیکن ویلی میں مصنوعی ذہانت (AI) کے طویل مدتی اثرات پر بحث کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ماہرین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کا ماننا ہے کہ ہر ملازمت میں تبدیلی آئے گی اور شاید کام کا ہفتہ چار دن کا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، بعض دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے روزگار کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے نامور بانی نے حالیہ تبصرے میں اس بات کی تائید کی ہے کہ ایلون مسک جیسے ارب پتی افراد مستقبل کے کام اور روزگار کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کر رہے ہیں، وہ حقیقت کے قریب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں انسانی محنت کی جگہ خودکار سسٹمز لے لیں گے جس سے معاشرے میں معاشی اور سماجی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس مباحثے میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ حکومتیں اور ادارے اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے کس قسم کی حکمت عملی مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت پیداوار میں نمایاں اضافہ کرے گی، لیکن اس کے ساتھ ہی محنت کش طبقے اور سفید پوش ملازمین کے لیے روزگار کے مواقع شدید خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی کے باوجود معاشرتی توازن کیسے برقرار رکھا جائے اور بے روزگاری کے امکانی طوفان کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔