World
برطانیہ میں یہود دشمنی میں اضافہ، 2025 مہلک ترین سال قرار
برطانیہ سمیت دنیا بھر میں یہودی برادری کے خلاف نفرت انگیز اور یہود دشمن واقعات میں ریکارڈ اضافے کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025ء اسرائیل سے باہر رہنے والے یہودیوں کے لیے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال ثابت ہوا۔
ایک نئی عالمی ڈائاسپورا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں یہود دشمنی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رجحان نہ صرف یورپی ممالک بلکہ دنیا بھر کی یہودی برادریوں کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے، جہاں ناصرف زبانی تلخ کلامی بلکہ جسمانی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے۔ متعلقہ حکام اور کمیونٹی رہنما اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025ء اسرائیل سے باہر مقیم یہودیوں کے لیے گزشتہ تیس برسوں سے زائد عرصے کا سب سے زیادہ مہلک سال رہا ہے۔ اس سال کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور جان لیوا حملوں نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس بڑھتی ہوئی مذہبی و نسلی منافرت کی شدید مذمت کی ہے اور تمام شہریوں کے لیے یکساں تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور سیاسی اتھل پتھ کے اثرات براہ راست بیرون ملک بسنے والی یہودی برادریوں پر پڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا اور عوامی مقامات پر نفرت انگیز پروپیگنڈے میں اضافہ ہوا۔ برطانوی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عبادت گاہوں اور کمیونٹی سنٹرز کے گرد سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔