LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ٹیک کمپنیوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ اضافہ

News Image
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر معمولی جوش و خروش کے باعث بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اسٹاک مارکیٹ کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چند مخصوص ٹیک جنات پر زیادہ انحصار کی وجہ سے معیشت میں عدم استحکام اور اتار چڑھاو کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دنیا بھر کے مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شاندار کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے شدید جوش و خروش کی بدولت اسٹاک مارکیٹ نے نئی ریکارڈ بلندیاں چھو لی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی اس غیر معمولی ترقی نے نہ صرف سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے بلکہ عالمی معیشت کے نئے رجحانات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ کے اس طوفانی اضافے کے ساتھ ہی معاشی ماہرین نے کچھ سنگین خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی یہ حالیہ بلندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بازار کا بڑا حصہ چند مخصوص اور محدود ٹیک کمپنیوں پر انحصار کر رہا ہے۔ اگر ان چند بڑے اداروں کی کارکردگی میں ذرا سا بھی اتار چڑھاو آتا ہے، تو اس کا براہ راست اور شدید اثر پوری معیشت پر پڑ سکتا ہے، جس سے وسیع پیمانے پر معاشی عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے چند بڑے نام پوری عالمی مارکیٹ کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے مستقبل کے حوالے سے اگرچہ توقعات بہت زیادہ ہیں اور کمپنیاں اس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن ریگولیٹرز اور مالیاتی تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطرات کو کم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے ذرائع کو متنوع بنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی دھچکے سے بچا جا سکے۔