World
ٹرمپ کا مکہ معاہدہ اور خطے میں نئے دفاعی اتحاد کا مستقبل
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین دفاعی معاہدے کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ یکجا ہو رہا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ اتحاد خطے میں روایتی امریکی سیکیورٹی چھتری کا مؤثر نعم البدل بن سکتا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ طور پر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو بھرپور انداز میں سراہا ہے اور اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اب باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کے قریب آ رہا ہے۔ اس معاہدے، جسے اکثر مکہ معاہدہ کہا جا رہا ہے، نے بین الاقوامی سطح پر مبصرین اور سفارتی حلقوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے کیونکہ یہ خطے کے تین اہم مسلم ممالک کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک کے تحت اکٹھا کرتا ہے۔
اس معاہدے کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں یہ بنیادی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ اتحاد خطے میں عشروں سے موجود امریکی سیکیورٹی چھتری کی جگہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ امریکہ طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کا بنیادی ضامن چلا آ رہا ہے، تاہم علاقائی طاقتیں اب اپنی سلامتی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی بیرونی انحصار کو کم سے کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس حوالے سے ایک اہم اشارہ دیا ہے کہ مصر بھی مستقبل میں اس ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ اگر مصری قیادت اس اتحاد کا حصہ بنتی ہے تو یہ خطے میں مسلم دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور سیکیورٹی بلاک بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن پر گہرے مرتب ہوں گے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ علاقائی خود کفالت کی طرف ایک بڑا قدم ہے، لیکن روایتی امریکی سیکیورٹی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا یا اس کا فوری نعم البدل بنانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم، اس طرح کے دفاعی اتحاد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کے معاملات خود سنبھالنے اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔