LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا فوجی مشقیں ٹرمپ تنقید ڈیموکریٹ رہنما

News Image
امریکہ کے ایک سینیئر ڈیموکریٹ رہنما نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو محدود کرنے کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں امریکی سیکیورٹی مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کو کمزور کرتا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے ایک سینیئر اور بااثر ڈیموکریٹ رہنما نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا میں مشترکہ فوجی مشقوں کے حجم کو کم کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رہنما کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے میں امریکہ کے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس سے دفاعی صلاحیتیں بھی براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان روایتی طور پر ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں جزیرہ نما کوریا میں امن اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ان مشقوں میں کمی یا ان کا خاتمہ مخالف قوتوں کو غلط پیغام دے سکتا ہے اور خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ڈیموکریٹ رہنما نے ٹرمپ کے اس فیصلے کو غیر سنجیدہ اور احمقانہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں اس بیان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حامیوں کا موقف ہے کہ سفارتی کوششوں کو فروغ دینے اور خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں تاکہ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔ تاہم، دفاعی ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر متفق ہے کہ عجلت میں کیے جانے والے دفاعی فیصلے اتحادی ممالک کے درمیان بداعتمادی کا باعث بن سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی سیاست اور امریکہ کی ایشیا پیسیفک کی حکمت عملی پر اس بحث کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی سیاسی میدان میں اس تنقید کے بعد سابق صدر یا ان کے حامیوں کی طرف سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے اور آیا اس کا اثر آئندہ کی دفاعی پالیسیوں پر پڑے گا یا نہیں۔