Technology
کیلیفورنیا: اے آئی چیٹ بوٹس کے ذریعے ذہنی علاج پر پابندی کا قانون
کیلیفورنیا میں ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے حامل چیٹ بوٹس کو خودکار طور پر ذہنی صحت کا علاج یا سائوتھراپی کرنے سے روکنا ہے۔ اس بل کے تحت مصنوعی ذہانت صرف طبی ماہرین کی معاونت کر سکے گی لیکن خود مختਾਰ طبی فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات کے حوالے سے ایک اہم قانون سازی کا آغاز کیا گیا ہے۔ حال ہی میں متعارف کرائے جانے والے بل ایس بی 903 (SB 903) کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی کمپینئن چیٹ بوٹس کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ صارفین کو براہ راست سائوتھراپی یا ذہنی صحت سے متعلقہ آزادانہ طبی مشورے فراہم کریں۔ اس قانون کا بنیادی مقصد آن لائن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ذہنی علاج کے نام پر ممکنہ خطرات اور نقصانات سے عام شہریوں کا تحفظ کرنا ہے۔
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو ڈپریشن، پریشانی اور تنہائی کے احساسات کو دور کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کا رخ کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ انسانوں کی طرح بات چیت کرنے والے ان سافٹ ویئر کو اپنا عارضی دوست یا معالج سمجھ بیٹھتے ہیں۔ تاہم، ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام نہ تو انسانی جذبات کی گہرائی کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس باضابطہ طبی تربیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے غلط مشورے ملنے پر صارفین کی ذہنی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
نئے بل کے قوانین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی سسٹمز لائسنس یافتہ ڈاکٹروں اور معالجین کی مدد تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ کسی بھی مریض کے حوالے سے خود مختار تھراپی یا طبی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ قانون سازوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی صحت کی بہتری کے لیے استعمال ہونا چاہیے، لیکن انسانی زندگیوں کے فیصلے کسی الگورتھم کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔
اس مجوزہ قانون پر ٹیک انڈسٹری اور ماہرینِ صحت کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف تکنیکی ماہرین اس قسم کے قوانین کو اختراع کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف طبی حلقے اس قدم کو انتہائی خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت بتا رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس بل پر مزید بحث کے بعد کیلیفورنیا کی قانون ساز اسمبلی اس حوالے سے حتمی منظوری دے گی، جو مستقبل میں دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔