LIVE
Loading Breaking News...

انفوسس کی مصنوعی ذہانت کے لیے اندرونی عملے کی تربیت کی حکمت عملی

News Image
ٹیکنالوجی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ اور قلت کے پیش نظر انفوسس نے اندرونی طور پر ٹیلنٹ تیار کرنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ روایتی بھرتی کے بجائے اپنے موجودہ ملازمین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا زیادہ مؤثر ہے۔
ٹیکنالوجی سروسز کی صنعت میں مصنوعی ذہانت (AI) نے کام کرنے کے انداز، درکار مہارتوں اور سروسز کی فراہمی کے طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ انفوسس کے چیف ہیومن ریسورس آفیسر شاجی میتھیو کے مطابق، مارکیٹ میں اے آئی کے ماہرین کی طلب ان کی رسد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے کمپنیوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انفوسس نے باہر سے عملہ بھرتی کرنے کے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر ہی اپنے ملازمین کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹس کے لیے تیار کرنے کی حکمت عملی وضع کی ہے۔ کمپنی کا یہ ماننا ہے کہ موجودہ ملازمین کو نئی مہارتوں سے آراستہ کرنا نہ صرف افرادی قوت کی قلت کو پورا کرتا ہے بلکہ ملازمین کے اندر ادارے کے لیے وفاداری اور ترقی کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ انفوسس کی جانب سے وسیع پیمانے پر تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا گیا ہے جن کے ذریعے ملازمین کو مشین لرننگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور جنریٹو اے آئی جیسے جدید شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کمپنی کے پاس ہر وقت ایسے ماہرین موجود ہوں جو کل کی ٹیکنالوجی کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کر سکیں۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کمپنیاں زیادہ کامیاب ہوں گی جو اپنے عملے کی مسلسل تربیت پر سرمایہ کاری کریں گی۔ انفوسس کی یہ اندرونی حکمت عملی دیگر تکنیکی اداروں کے لیے بھی ایک مثال بنتی جا رہی ہے۔ ملازمین کو جدید اے آئی ٹولز اور رئیل ورلڈ پروجیکٹس پر کام کرنے کا موقع دے کر کمپنی نہ صرف اپنے تکنیکی معیار کو بلند کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مقابلے میں اپنی برتری کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔