Business
آئی آئی ایم بنگلورو انکیوبیٹر کا اسٹارٹ اپ ویلیو میں سات ارب ڈالر سے تجاوز
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بنگلورو کا انکیوبیٹر این ایس آر سی ای ایل نے سات ارب ڈالر کی مجموعی اسٹارٹ اپ ویلیو کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ ادارہ اب کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دینے اور مصنوعی ذہانت کے نئے ٹولز متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بنگلورو کا معروف انکیوبیٹر، این ایس آر سی ای ایل (NSRCEL)، نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے حمایت یافتہ اسٹارٹ اپس کی مجموعی ویلیو میں سات ارب ڈالر سے زائد کا ہندسہ چھو لیا ہے۔ یہ ادارہ طویل عرصے سے بھارت میں نئے کاروباری آئیڈیاز اور ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں کی تائید اور رہنمائی کرتا آ رہا ہے، جس کی بدولت ملک میں معاشی سرگرمیوں کو ایک نیا فروغ ملا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، اس کامیابی میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے کاروباری افراد شامل ہیں جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی کمپنیوں کی بنیاد رکھی اور انہیں مستحکم کیا۔
اب اس ادارے نے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ این ایس آر سی ای ایل کا منصوبہ ہے کہ مختلف مخصوص شعبوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ترین ٹولز متعارف کروائے جائیں تاکہ کاروباری نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جا سکے۔ اس جدید حکمت عملی کا مقصد ایکٹیو نیٹ ورک کو بڑھا کر دس لاکھ افراد تک پہنچانا ہے، جس سے نہ صرف نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ تکنیکی جدت طرازی کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔ ادارے کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال روایتی کاروباروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس نئے فیز کے تحت، انکیوبیٹر ایسے نوجوان ذہنوں کی حوصلہ افزائی کرے گا جو ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ انکیوبیٹ ہونے والے اسٹارٹ اپس کو بہترین مشاورتی اور مالیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے انڈین اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو عالمی سطح پر مزید پذیرائی ملے گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
این ایس آر سی ای ایل کی یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ صحیح سمت میں کی گئی منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی کا بروقت استعمال کس طرح معیشت کا رخ بدل سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ ادارہ مزید ہزاروں نوجوانوں کو اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے خودمختار بنانے کا عزم رکھتا ہے، جس سے ملک میں صنعت کاری کی ثقافت کو مزید تقویت ملے گی۔