Business
انکم ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری اور منافع کا موازنہ
مختلف انکم ای ٹی ایف میں ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر ملنے والے سالانہ منافع کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے۔ جے ای پی آئی اور ایس پی وائی آئی جیسے فنڈز کے درمیان سالانہ آمدنی میں ہزاروں ڈالر کا فرق ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں انکم ای ٹی ایف (Exchange-Traded Funds) کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ایسے سرمایہ کار جو اپنے سرمائے سے ایک مستقل اور باقاعدہ آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں پانچ سب سے زیادہ مقبول انکم ای ٹی ایف پر ایک سو فیصد ریاضیاتی تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر اصل منافع کتنا ملتا ہے۔ اس تجزیے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختلف فنڈز کی حکمت عملیوں کی وجہ سے ملنے والی رقم میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جے ای پی آئی (JEPI) اور ایس پی وائی آئی (SPYI) دونوں ہی انکم سرمایہ کاروں کو ہدف بناتے ہیں، لیکن منافع کی شرح میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر کوئی سرمایہ کار ایک لاکھ ڈالر جے ای پی آئی میں لگائے تو سالانہ صرف سات ہزار نو سو انسٹھ (7,949) ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہی رقم ایس پی وائی آئی میں لگائی جائے تو سالانہ منافع بڑھ کر گیارہ ہزار چھ سو چوالیس (11,644) ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ ان دونوں معروف فنڈز کی سالانہ آمدنی میں تقریباً تین ہزار سات سو ڈالر کا واضح فرق موجود ہے، جو کسی بھی سرمایہ کار کے لیے ایک بڑی رقم ہے۔ ماہرین مالیات کا کہنا ہے کہ یہ فرق بنیادی طور پر ان فنڈز کی اندرونی سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور منافع کی تقسیم کے طریقوں کی وجہ سے ہے۔ ایس پی وائی آئی اپنے منافع کا کچھ حصہ مختلف ذرائع سے روٹ کرتا ہے جو طویل المدتی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ای ٹی ایف میں رقم لگانے سے پہلے اس کے ماضی کے ریکارڈ، منافع کی تقسیم کے تناسب اور مارکیٹ کے رجحانات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس طرح کے تفصیلی تجزیے سرمایہ کاروں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں تاکہ وہ کم رسک کے ساتھ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔