LIVE
Loading Breaking News...

روسی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی سے امریکی فوج کی دلچسپی

News Image
امریکی فوج ایران کے خلاف تنازع میں ہونے والے نقصانات کے بعد نئی نسل کے موبائل راڈارز کی تیاری کے لیے روسی ٹیکنالوجی کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ اقدام فضائی دفاعی نظام کو مزید موثر اور جدید بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی حلقوں میں روسی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی کو اپنانے یا اس سے متاثر ہو کر نئے سسٹمز تیار کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ملٹری واچ کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ جنگی صورتحال بالخصوص ایران کے ساتھ تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات نے امریکی دفاعی منصوبہ سازوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی فوج اب ایک ایسی نئی نسل کے موبائل راڈارز تیار کرنے کی متلاشی ہے جو زیادہ لچکدار اور دشمن کے حملوں کے خلاف محفوظ ہوں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تھاد (THAAD) اور دیگر جدید راڈار سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے روسی ٹیکنالوجی کے ان پہلوؤں کا مطالعہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے ماضی میں فضائی دفاع کے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ امریکی دفاعی محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح روسی ڈیزائن کے اصولوں کو امریکی عسکری آلات میں ضم کیا جا سکتا ہے تاکہ میدانِ جنگ میں درپیش جدید چیلنجز سے نبرد آزما ہوا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان تکنیکی مسابقت کے باوجود، ایک دوسرے کے تجربات اور ٹیکنالوجی سے سیکھنا جدید جنگی تقاضوں کے تحت ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ اگر امریکی فوج روسی فضائی دفاعی طرز پر اپنے موبائل راڈارز کی تیاری میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑا اسٹریٹجک موڑ ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف امریکی فوج کی تنصیبات کی حفاظت میں اضافہ ہوگا بلکہ آنے والے وقتوں میں فضائی دفاعی نظام کی پوری دنیا میں نئی تشریح بھی کی جائے گی۔