World
مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملے اور المغیر گاؤں کی صورتحال
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں المغیر میں فلسطینی خاندانوں کو ہر ہفتے صیہونی آباد کاروں کے پرتشدد حملوں اور محاصرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ گھر اب اس طویل اور کٹھن جدوجہد کا ہ اولیں محاذ بن چکا ہے جو روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے خطے میں واقع المغیر گاؤں کا ایک گھر اس وقت تنازعات اور کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں کے باسیوں کو ہر ہفتے صیہونی آباد کاروں کی طرف سے شدید نوعیت کے حملوں اور محاصرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مکان جو کہ گاؤں کے ایک کنارے پر واقع ہے، اب قابض افواج اور آباد کاروں کی جارحیت کے خلاف ایک طرح کا مستقل فرنٹ لائن بن چکا ہے۔ یہاں رہنے والے خاندان ہر ہفتے اس خوف کے سائے میں جیتے ہیں کہ کب نامعلوم سمت سے حملہ آور ہوں گے اور ان کی جائیداد کو نقصان پہنچائیں گے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، ان ہفتہ وار حملوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنا اور خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا ہے۔ آباد کار نہ صرف مکینوں کو ہراساں کرتے ہیں بلکہ املاک کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس گھر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کا جینا دوبھر ہو چکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سکیورٹی کے حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود، وہ اپنی زمین اور اپنے گھر کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہر حال میں مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مغربی کنارے میں آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطے میں دیرپا امن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ مظلوم فلسطینی خاندان عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں اس ظلم و ستم سے نجات دلائی جا سکے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔