Health
اسکرین شاٹس لینے سے یادداشت کیوں کمزور ہوتی ہے؟ نئی تحقیق
نئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیجیٹل ڈیوائسز پر مسلسل اسکرین شاٹس لینے سے انسانی دماغ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ عادت طویل المعاد یادداشت کو کمزور کرنے اور معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
آج کے اس ڈیجیٹل دور میں اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ کسی بھی اہم معلومات، دستاویز یا تصویر کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم فوراً 'اسکرین شاٹ' کا سہارا لیتے ہیں۔ تاہم، ماہرین اور سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ ترین تحقیق نے اس عام رویے کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق، بار بار اسکرین شاٹس لینا اور انہیں ڈیجیٹل گیلری میں محفوظ کرنا دراصل انسان کی طویل المعاد یادداشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جب انسان کسی چیز کی تصویر یا اسکرین شاٹ لے لیتا ہے، تو اس کا دماغ اس معلومات کو محفوظ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ دماغ کو یہ جھوٹا سگنل مل جاتا ہے کہ معلومات تو محفوظ ہو چکی ہیں، لہٰذا انہیں یاد رکھنے یا ذہن نشین کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ اس عمل کو نفسیاتی اصطلاح میں 'آف لوڈنگ میموری' کہا جاتا ہے، جہاں انسان اپنی یادداشت کا بوجھ ڈیجیٹل آلات پر منتقل کر دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس عادت کی وجہ سے انسانی دماغی صلاحیتیں کمزور ہونے لگتی ہیں اور اصل زندگی میں چیزوں کو یاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ ٹیکنالوجی ہماری سہولت کے لیے ہے، لیکن اس کا بے دریغ استعمال ہمارے ادراکی افعال کو متاثر کر رہا ہے۔ ماضی میں لوگ اہم نمبروں، پتے اور معلومات کو خود یاد رکھنے کی کوشش کرتے تھے جس سے دماغ کی ورزش ہوتی رہتی تھی۔ آج کل معلومات کی فوری دستیابی نے ہمارے دماغ کو سست کر دیا ہے۔ اس نئی تحقیق کی روشنی میں ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ڈیجیٹل اسکرین شاٹس لینے کے بجائے اہم معلومات کو ہاتھ سے لکھنے یا دماغی طور پر سمجھنے کی عادت ڈالی جائے تاکہ یادداشت کو محفوظ اور توانا رکھا جا سکے۔