Technology
رو کھنہ کا ڈیٹا سینٹر بل آف رائٹس کا مطالبہ اور تکنیکی ضابطہ کار
امریکی رکن کانگریس رو کھنہ نے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک نئے بل آف رائٹس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مقامی کمیونٹیز کو ان کے قیام پر زیادہ اختیار مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی اس ڈیجیٹل صنعت کو باقاعدہ ضابطے کے تحت لانے کی اشد ضرورت ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس رو کھنہ نے ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کے لیے ایک جامع 'ڈیٹا سینٹر بل آف رائٹس' (Data Center Bill of Rights) متعارف کرانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے فروغ کے ساتھ ہی ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے، جس کے مقامی آبادی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صنعت کو اب مزید بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا اور اس کے لیے وفاقی سطح پر ضابطہ کار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
رو کھنہ کا مؤقف ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے عمل میں مقامی کمیونٹیز اور عام شہریوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مراکز کی تعمیر سے قبل مقامی لوگوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی آواز اٹھائیں اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا ان کے علاقے میں اس نوعیت کے بڑے پروجیکٹس لگنے چاہئیں یا نہیں۔ اس بل آف رائٹس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کارپوریٹ اداروں اور مقامی آبادی کے درمیان ایک توازن قائم کیا جا سکے تاکہ ماحولیاتی اور معاشی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے، خصوصاً اس صورت میں جب یہ مراکز بڑی مقدار میں بجلی اور پانی استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی بڑھتی ہوئی کھپت اور گرڈ پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے اب قانون ساز حلقوں میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز بنا رہی ہیں، جن سے کاربن کے اخراج میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رو کھنہ کے اس مطالبے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کو عوامی فلاح اور ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ریاستوں میں مقامی رہائشی اپنے علاقوں میں بڑی ٹیک کمپنیوں کے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس میں اس نوعیت کے قوانین پر بحث شروع ہونے سے امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل صنعت کے ضابطہ کار کے حوالے سے مزید سخت پالیسیاں وضع کی جائیں گی، جس سے نہ صرف عوام کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں شفافیت بھی بڑھے گی۔