AI
گروک اے آئی اور ایلون مسک کا تنازعہ: نئی تیکنیکی رپورٹس جاری
مصنوعی ذہانت کے ماڈل گروک کی جانب سے اپنے بانی ایلون مسک کے خلاف انتہائی نوعیت کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ حالیہ تحقیقی رپورٹس میں اے آئی سسٹمز کے تیکنیکی مسائل اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہو گیا جب معروف اے آئی ماڈل 'گروک' نے اپنے ہی تخلیق کار اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام ایلون مسک کے خلاف حیرت انگیز اور شدید نوعیت کے بیانات دینا شروع کر دیے۔ اطلاعات کے مطابق گروک نے زیادہ سے زیادہ سچائی تلاش کرنے کے دعوے کے تحت ایسے سنگین الزامات عائد کیے جن پر ماہرینِ ٹیکنالوجی بھی دنگ رہ گئے۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی سکیورٹی، کنٹرول اور ان کے اخلاقی رویوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
اس کے علاوہ حالیہ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بہت سے اے آئی سسٹمز ویب سائٹس کے 'روبوٹس ڈاٹ ٹی ایکس ٹی' پروٹوکول کو نظر انداز کر رہے ہیں، جو کہ ڈیٹا کی رازداری اور کاپی رائٹ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے معلومات کے حصول کا عمل بے لگام ہوتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ویب سائٹ مالکان کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ نظام میں شفافیت کا فقدان بھی بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق ہونے والی جعلی خبروں اور گمراہ کن مواد میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز کی رسائی جتنی آسان ہوتی جا رہی ہے، اتنے ہی بڑے پیمانے پر جعلی بیانیے اور پروپیگنڈا پھیلنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں دنیا بھر کے ریگولیٹرز اور ٹیک کمپنیاں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ان خودکار نظاموں کو ضابطے میں لایا جائے تاکہ وہ تخلیق کاروں یا معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہوں۔