World
ٹرمپ کی عمان کو بم سے اڑانے کی دھمکی اور مشرق وسطیٰ کا بحران
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی راہ میں حائل ہونے پر عمان کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیاں دونوں تیز ہو چکی ہیں۔
امریکی سیاست اور بین الاقوامی سفارت کاری میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب سابق اور متوقع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو انتہائی سخت اور غیر معمولی دھمکی دی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ دھمکی اس وقت دی گئی جب عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک معاہدے کی بازگشت تھی اور امریکی ایران معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی تھی۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ اگر عمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے یا مجوزہ معاملات میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس بیان کے ساتھ ہی خطے میں سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر اور اہم شخصیت جیرڈ کُشنر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقاتیں اور بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے میں ایک نئی سفارتی اور عسکری حکمت عملی پر کام جاری ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بادل ایک بار پھر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
عمان جو کہ روایتی طور پر خطے میں ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان رابطے کا پل سمجھا جاتا ہے، اس کے لیے یہ صورتحال انتہائی نازک بن چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے مابین حالیہ مفاہمت نے جہاں تہران کو کچھ سفارتی ریلیف فراہم کیا ہے، وہیں واشنگٹن میں اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں اور پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے کیا اثرات ہوں گے، اس کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ امریکی انتظامیہ اور علاقائی ممالک اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ تاہم، فی الحال مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور ہر کوئی اس تنازع کے ممکنہ نتائج پر نظریں ٹکائے بیٹھا ہے۔