LIVE
Loading Breaking News...

آبشار ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت سست، امریکہ ایران مذاکرات تعطل کا شکار

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث آبشار ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات میں تعطل اور جمود کے بعد خلیجی خطے بالخصوص آبشار ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آبشار ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں اور ٹینکرز کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات اور سکیورٹی خدشات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ پر ٹریفک کم ہونے سے بین الاقوامی تجارت سے وابستہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے تیل کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔ دوسری جانب، آبشار ہرمز میں پیدا ہونے والی اس سست روی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اگرچہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس تعطل اور جنگی صورتحال کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کا قلیل مدتی امکان محدود ہے، تاہم مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت بدستور برقرار ہے۔ برینٹ خام تیل اور دیگر متعلقہ آئل بینچ مارکس اس وقت اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور سرمایہ کار خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی ذرائع سے معاملات کو جلد نہ سلجھایا گیا تو سپلائی چین متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ آبشار ہرمز دنیا کی سب سے اہم اسٹریٹجک سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل دنیا کے مختلف حصوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر خلیجی خطے کی نازک سکیورٹی اور توانائی کی فراہمی کے بحران کو اجاگر کر دیا ہے، جس سے عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے مابین سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔