World
ایران کا مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور جہازوں پر حملہ
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات کے موقع پر ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور عمان کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن ہیاہو کے درمیان اہم ملاقات جاری تھی، تو دوسری طرف ایران نے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران خطے کے عسکری ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور دونوںممالک کی قیادت صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پہلے ہی خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ علاوہ ازیں، ایرانی فورسز نے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم رستہ مانا جاتا ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ بحری جہازوں پر ہونے والے ان حملوں کے بعد سمندری سفر اور تجارت سے وابستہ اداروں نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی بحری محافظ دستے بھی ہائی الرٹ پر آ گئے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے درمیان عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کے انتظام اور سکیورٹی سے متعلق ایک مصالحتی تجویز پیش کی گئی تھی تاکہ خطے میں امن کو فروغ دیا جا سکے اور تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔ تاہم، تہران کی جانب سے عمان کی اس امن تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ ایران کا اس تجویز کو ٹھکرانا اس بات کا غماز ہے کہ فی الحال وہ اپنے فوجی و اسٹریٹجک مؤقف میں نرمی لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس پس منظر میں عالمی طاقتیں اب مزید سخت لائحہ عمل پر غور کر رہی ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی همہ گیر جنگ سے بچایا جا سکے، لیکن زمینی حقائق انتہائی گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں اور امن کی تمام کوششیں فی الحال تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔