Technology
پروٹون اے آئی رپورٹ: چیٹ جی پی ٹی اور کلاؤڈ صارفین کا ڈیٹا
پروٹون کی جانب سے جاری کردہ 'اے آئی پیپر ٹریل' نامی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے سسٹمز صارفین کے بارے میں کس حد تک ذاتی معلومات رکھتے ہیں۔ اس تحقیق سے معروف چیٹ بوٹس کی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیتوں اور صارفین کی رازداری پر پڑنے والے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں رازداری کے حوالے سے کام کرنے والی مشہور کمپنی پروٹون نے حال ہی میں ایک نئی اور اہم رپورٹ جاری کی ہے جس کا عنوان 'اے آئی پیپر ٹریل' ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ دنیا کے مقبول ترین مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس جیسے کہ اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی اور اینتھروپک کا کلاؤڈ اپنے صارفین کے بارے میں کتنی گہری معلومات رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ سسٹمز صارفین کے سوالات، ان کی ترجیحات اور روزمرہ کے استعمال سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب صارفین ان چیٹ بوٹس کے ساتھ طویل گفتگو کرتے ہیں اور اپنی ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تفصیلات شیئر کرتے ہیں، تو یہ سسٹمز اس ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ اگرچہ کمپنیاں اس بات کا دعویٰ کرتی ہیں کہ صارفین کا ڈیٹا انتہائی محفوظ ماحول میں رکھا جاتا ہے اور اسے ماڈلز کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے پرائیویسی کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لیتے ہیں۔
پروٹون کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دے دی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں صارفین کی ذاتی معلومات کتنی محفوظ ہیں۔ خاص طور پر جب مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تو عام لوگوں کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ ان کا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین کو اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے وقت اپنی حساس اور ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ وہ ممکنہ خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔