World
سپریم کورٹ کا ٹرمپ کی اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ
امریکی سپریم کورٹ نے مصنفہ ای جِین کیرول کے خلاف جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ پلٹنے کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ایک بار پھر ناکام بنا دی ہے۔ اس قانونی جنگ کے نتیجے میں سابق امریکی صدر پہلے ہی ہرجانے کی مد میں پانچ ملین ڈالر سے زائد کی رقم ادا کر چکے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دائر کی جانے والی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے مصنفہ ای جِین کیرول کے جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے مقدمے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے اس طویل عرصے سے جاری تنازعے کو ختم کرنے یا پلٹنے کی تمام تر کوششوں کو ایک اور بڑا دھکا لگا ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا تھا جب مصنفہ نے الزام عائد کیا تھا کہ سابق صدر نے ماضی میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی اور بعد میں اس بات سے انکار کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا۔ قانونی کارروائی کے دوران نچلی عدالتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاملے میں قصوروار قرار دیا تھا اور انہیں متاثرہ مصنفہ کو بھاری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ فیصلے کے بعد امریکی صدر پہلے ہی اس کیس کے سلسلے میں مصنفہ کو ہرجانے اور ہرجانے کے سود کی مد میں پانچ ملین ڈالر سے زائد کی خطیر رقم ادا کر چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلاء نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ مقدمے کی کارروائی میں قانونی نقائص موجود تھے جن پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔ تاہم، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اس معاملے میں مزید قانونی چارہ جوئی کے دروازے تقریبا بند ہو چکے ہیں اور سابق صدر کو عدالتی احکامات کی مکمل تعمیل کرنا ہوگی۔ یہ فیصلہ امریکی سیاسی حلقوں اور عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے طاقتور شخصیات کے خلاف بھی عدالتی فیصلوں کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔