World
ٹرمپ کا ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ اور تازہ ترین کشیدگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کا سفید جھنڈا لہرائے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی یادداشتِ مفاہمت کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کے پاس ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطے موجود ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہتھیار ڈال دے اور امن کی خاطر سفید جھنڈا لہرائے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے مابین طے پانے والی ایک اہم یادداشتِ مفاہمت (MoU) کی مدت باضابطہ طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایک انٹرویو یا بیان کے دوران امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے رابطے براہِ راست ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اس تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی جلد بازی سے کام لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنے مؤقف پر پوری طرح قائم ہے اور معاملات کو اپنے وقت اور حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ بیانات اور یادداشتِ مفاہمت کی مدت کے خاتمے سے خطے میں سفارتی کوششوں کو شدید دھکا لگ سکتا ہے۔ دونوں حریف ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ اور براہِ راست رابطوں کے دعوے خطے کے سٹریٹجک منظرنامے میں ایک نیا موڑ لے آئے ہیں۔ دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ کشیدگی کسی بڑی فوجی جھڑپ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا پھر سفارتی سطح پر کوئی نیا راستہ نکالا جائے گا۔