LIVE
Loading Breaking News...

چین کا تائیوان پر نیا سمندری دباؤ اور ممکنہ ناکہ بندی

News Image
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے نئی قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں کا دائرہ کار تائیوان کے خلاف سخت ناکہ بندی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس نئی صورتحال سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بیجنگ: چین کی جانب سے تائیوان کے قریب نئے میری ٹائم گشت اور قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس سے اس خود مختار جزیرے پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین اقدامات انتہائی تیزی سے ایک مکمل سمندری اور فضائی ناکہ بندی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ چینی حکام کی جانب سے ان اقدامات کو ملکی سلامتی اور سمندری حدود کے دفاع کا نام دیا جا رہا ہے، تاہم تائیوان اور اس کے حامی ممالک اسے جارحانہ ہتھکنڈے قرار دے رہے ہیں۔ اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق، اس قسم کے گشت اور آپریشنز دراصل مستقبل میں کسی بڑی فوجی کارروائی یا محاصرے کی تیاری کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تائیوان کی وزارت دفاع نے بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کریں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے اس خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بین الاقوامی تجارت اور سمندری راستے محفوظ رہ سکیں۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے مزید سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ دونوں فریق اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی قسم کے لچکدار رویے کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔