LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی اداروں میں ٹیلنٹ کا بحران اور سرکاری نوکریوں کا مستقبل

News Image
سرکاری اداروں سے پیشہ ور افراد کے انخلا کی بنیادی وجوہات پرائیویٹ سیکٹر کی بہتر تنخواہیں اور پرانے برطانوی دور کے قوانین ہیں۔ بھارتی حکام کو اب اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ہنر مند افراد کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار اس کے باصلاحیت اور ہنر مند افراد پر ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنے ٹیلنٹ کو بچانے اور اسے فروغ دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر موثر حکمت عملی تیار کرے۔ سرکاری اداروں سے پیشہ ور افراد کی مسلسل روانگی ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس رجحان کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جو ملک کے تحقیقی اور انتظامی ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں۔ سرکاری اداروں سے پروفیشنلز کے فرار کی بنیادی طور پر دو بڑی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ پہلی اور اہم ترین وجہ نجی شعبے کی جانب سے دی جانے والی خطیر تنخواہیں ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر اپنے ملازمین کو سرکاری تنخواہوں کے مقابلے میں دو سے پانچ گنا زیادہ مالی مراعات فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان اور قابل دماغ افراد سرکاری نوکریوں کے بجائے کارپوریٹ دنیا کا رخ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ سرکاری محکموں کا وہ فرسودہ نظام ہے جو برطانوی استعمار کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے پیچیدہ قوانین، کام کرنے کے روایتی اور سست رفتار طریقے، اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے والے اصول پیشہ ور افراد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے۔ تنخواہوں کے ڈھانچے کو پرائیویٹ سیکٹر کے قریب لایا جائے تاکہ بہترین دماغ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو سرکاری اداروں میں تجربہ کار اور قابل افراد کا فقدان مزید شدت اختیار کر جائے گا، جس سے ملک کی مجموعی ترقی اور پالیسی سازی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت وقت کو اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا تاکہ ملک کا قیمتی اثاثہ یعنی باصلاحیت نوجوان بیرون ملک یا نجی اداروں کی اندھی دوڑ میں ضائع ہونے کے بجائے قومی خدمت میں استعمال ہو سکے۔