LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے توانائی کی اہمیت

News Image
کرشنا جونالاگڈا کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں توانائی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس شعبے کی ترقی کے لیے جدید اور پائیدار توانائی کے حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترویج کے ساتھ ہی ڈیٹا سینٹرز کی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، اس شعبے کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں سے ایک خاطر خواہ توانائی کی فراہمی ہے۔ معروف ماہرین کے مطابق، پاور مینجمنٹ اور توانائی کی نکاسی اس وقت ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور اس چیلنج پر قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس حوالے سے کرشنا جونالاگڈا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ ہم کس حد تک موثر توانائی کے حل پیش کر پاتے ہیں۔ روایتی پاور سسٹمز بڑھتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز کا بوجھ اٹھانے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، جس کے باعث متبادل اور پائیدار توانائی کے ذرائع پر توجہ دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر توانائی کے بحران کا بروقت حل تلاش نہ کیا گیا تو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے نہ صرف زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ کولنگ سسٹمز اور گرین انرجی کا استعمال بھی ماحول اور لاگت دونوں کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی کمپنیاں اب نئے پاور میکانزمز پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ نیکسٹورا نیوز اردو کے مطابق، کرشنا جونالاگڈا کا یہ بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہائی ٹیک انقلاب کے پس پردہ بنیادی ڈھانچے بالخصوص توانائی کی صنعت کا مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے۔ آنے والے برسوں میں وہی ادارے اور ممالک اے آئی کی دوڑ میں آگے رہیں گے جو ڈیٹا سینٹرز کے لیے پائیدار اور سستے توانائی کے ذرائع کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔