LIVE
Loading Breaking News...

واشنگٹن میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج اور ہوٹل پر دھاوا

News Image
واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت ہنگامہ آرائی ہو گئی جب غصے سے بھرے ہوئے مظاہرین نے اس ہوٹل پر دھاوا بول دیا جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور وزیراعظم کو گھیرنے کی کوشش کی۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اُ اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب بڑی تعداد میں مشتعل کارکنان اور مظاہرین نے اس ہوٹل کا رُخ کیا جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو رات کے کھانے میں مصروف تھے۔ اس اچانک احتجاج اور مظاہرین کے ہوٹل کے قریب پہنچنے پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے، تاہم صورتحال کافی دیر تک کشیدہ رہی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف سخت الفاظ درج تھے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی قیادت کی پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ نعرے بازی کے دوران واشنگٹن کی سڑکیں گونج اٹھیں اور سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کو ہوٹل کے مرکزی دروازے سے دور رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرنا پڑی۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کے دوران سیکیورٹی کے پہلے ہی غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے، لیکن اس نوعیت کے عوامی مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر تنازعے کے حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ منتظمین نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس قسم کے پرامن مگر شدید احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ دنیا بھر کی توجہ اس تنازعے کی طرف مبذول کروائی جا سکے۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے ہوٹل کے گردونواح میں گشت مزید سخت کر دیا ہے جبکہ سیاسی حلقوں میں اس احتجاج کے اثرات پر گہری بحث شروع ہو گئی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے اس مظاہرے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ بین الاقوامی شخصیات کے دوروں کے دوران سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل بھی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔