Business
ایٹمی توانائی اور درآمدی بحران: ہندوستان کی نئی توانائی پالیسی
ہندوستان کے لیے 2070 تک نیٹ زیرو اور 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف کے حصول کے لیے ایٹمی توانائی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایران میں جنگ کے بعد توانائی کی سیکیورٹی ایک نیا اور اہم ہدف بن کر سامنے آیا ہے۔
ہندوستان کی توانائی کی پالیسی اس وقت تین اہم اور بنیادی مقاصد کے گرد گھومتی ہے جن میں 2070 تک نیٹ زیرو کا حصول، 2047 تک ایک جامع ترقی یافتہ ہندوستان (وکسیت بھارت) کی تعمیر اور حالیہ علاقائی تنازعات کے بعد توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ ان تمام اہداف کو پورا کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کو فروغ دینا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس شعبے میں درآمدی مسائل اور پالیسی کے چیلنجز ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایران اور دیگر خطوں میں جاری کشیدگی نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم کرنا اور متبادل ذرائع بالخصوص نیوکلیئر انرجی کو وسعت دینا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ہندوستان کو اپنے نیوکلیئر ری ایکٹرز کے لیے بڑے پیمانے پر یورینیم اور دیگر ضروری مواد کی ضرورت ہے، جو ملکی سطح پر تمام تر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی توانائی کا انحصار درآمدات پر ہے، جو عالمی منڈی کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ یورینیم کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، لیکن سپلائی چین کے یہ مسائل پالیسی سازوں کے لیے ایک کڑا امتحان بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، مقامی سطح پر نیوکلیئر پلانٹس کی تنصیب اور ان کے انتظام سے جڑے تکنیکی اور مالیاتی چیلنجز بھی کم نہیں۔ ایک طرف جہاں فنڈز کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے، وہیں دوسری طرف ماحول دوست اور محفوظ ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود، حکومت کی یہ کوشش ہے کہ گرین انرجی اور نیوکلیئر پاور کے امتزاج سے کاربن کے اخراج کو کم کیا جائے اور ملک کو معاشی طور پر خود کفیل بنایا جائے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہندوستان کس حکمت عملی کے تحت ان درآمدی اور پالیسی مسائل پر قابو پاتا ہے اور اپنے طویل مدتی توانائی کے اہداف کو پائے تکمیل تک پہنچاتا ہے۔