World
روسی تارکین وطن اور مخالفین کو روس اور یورپ میں مشکلات کا سامنا
ماسکو حکومت کی جانب سے روسی شہریوں کی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف یورپی ممالک نے بھی روسی مہاجرین کو قانونی حیثیت دینے کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس دوطرفہ دباؤ کی وجہ سے روسی اپوزیشن کارکنان اور تارکین وطن انتہائی کسمپرس اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
ماسکو حکومت کی جانب سے ملک چھوڑنے والے سیاسی مخالفین اور ناقدین کے خلاف سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں حکام ان کی شہریت کے حقوق سلب کرنے کے درپے ہیں۔ روسی حکومت ملک سے باہر موجود ایسے افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو جنگ یا ملکی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ شہریت منسوخ کرنے اور جائیدادیں ضبط کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے ماسکو اپنے ناقدین پر دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ انہیں سیاسی طور پر مفلوج کیا جا سکے۔ دوسری جانب صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب یورپی ممالک نے بھی روسی مہاجرین اور سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قانونی حیثیت حاصل کرنے کے راستے انتہائی دشوار بنا دیے ہیں۔ سکیورٹی خدشات اور سخت امیگریشن قوانین کے تحت یورپی ریاستیں اب روسی شہریوں کو ویزا اور رہائشی پرمٹ دینے میں انتہائی محتاط اور سخت رویہ اختیار کر رہی ہیں۔ اس دوطرفہ دباؤ کی چکی میں عام روسی شہری اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازیں دونوں طرف سے پس رہی ہیں۔ روس کے اندر سے جلاوطن ہونے والے یہ افراد نہ تو اپنے وطن واپس جا سکتے ہیں اور نہ ہی یورپ میں انہیں آسانی سے پناہ یا قانونی حقوق مل رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے سیاسی کارکنوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں اور انہیں کسی بھی طرف سے تحفظ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ اس قضیے نے بین الاقوامی سطح پر مہاجرین کے حقوق اور ریاستوں کی سکیورٹی پالیسیوں کے درمیان ایک نیا مباحثہ چھیڑ دیا ہے، جس کا فوری حل فی الحال نظر نہیں آتا۔