Technology
جنوبی سرحد پر ہیومنائیڈ روبوٹس کی تعیناتی کی تجویز
امریکہ میں روبوٹکس کی ایک کمپنی نے تجویز پیش کی ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کو سرحدوں پر گشت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ جدید روبوٹس ناہموار خطوں میں خود مختار طور پر حرکت کرنے اور انسانوں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکہ میں روبوٹکس کی دنیا سے ایک انتہائی دلچسپ اور مستقبل کی عکاسی کرتی ہوئی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک کمپنی نے تجویز دی ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کو جنوبی سرحد پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ یہ روبوٹس کسی بھی انسانی مداخلت کے بغیر مشکل اور ناہموار راستوں پر خود مختار طریقے سے چلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد سرحدی محافظوں کے کام کو آسان بنانا اور سیکیورٹی کے نظام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ جدید سنسرز اور کیمروں سے لیس یہ روبوٹس دور دراز کے علاقوں میں بھی انسانوں اور مشکوک نقل و حرکت کو باآسان شناخت کر سکتے ہیں، جس سے ملکی سرحدوں کی نگرانی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس قسم کے روبوٹس کا استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بہترین معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کچھ تکنیکی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم متعلقہ اداروں کی طرف سے اس پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس طرح کی جدید روبوٹکس ٹیکنالوجی کا دفاعی اور سرحدی امور میں استعمال مزید بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے، جو سیکیورٹی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی ہوگی۔