Technology
نوجوانوں میں مصنوعی ذہانت کے سی ای اوز کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت
نوجوان نسل کا ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں اور مصنوعی ذہانت کے موجودہ سربراہوں کے تئیں رجحان تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب یہ نوجوان ان شخصیات اور اداروں سے شدید بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں جو حیرت انگیز ثابت ہو رہا ہے۔
ایک دہائی قبل تک، نوجوان نسل گوگل اور ایپل جیسی نامور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمولیت کو اپنی خوابیدہ نوکری سمجھتی تھی اور جدید ترین شعبوں میں کام کرنے کے لیے بے تاب رہتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ان اداروں کو تخلیقی صلاحیتوں کا گہوارہ اور نوجوانوں کے مستقبل کا روشن ستارہ مانا جاتا تھا، جہاں کام کرنا ہر پڑھے لکھے نوجوان کی سب سے بڑی خواہش ہوا کرتی تھی۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک ڈرامائی موڑ لیا ہے اور اب صورتحال یکسر مختلف نظر آ رہی ہے۔
حالیہ جائزوں اور رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان طبقے میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کمپنیوں کے سربراہوں اور بڑے ٹیک اداروں کے اعلیٰ حکام کے خلاف ناپسندیدگی اور غصے کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ نوجوان اب ان کاروباری شخصیات کو محض منافع کمانے والی مشین یا ایسے افراد کے طور پر دیکھتے ہیں جو انسانی اقدار کو پس پشت ڈال کر صرف اپنی دولت میں اضافہ کرنے کے درپے ہیں۔ اس شدید ناپسندیدگی نے بہت سے تجزیہ کاروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ کبھی یہ ادارے نوجوانوں کے سب سے بڑے ہیرو مانے جاتے تھے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے کے فرمودات، ملازمت کے غیر یقینی حالات اور اخلاقی خدشات ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ نے جہاں ایک طرف روزگار کے مواقع کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے، وہیں دوسری طرف ان کمپنیوں کے رہنماؤں کے بیانات نے بھی نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے۔ نوجوان نسل اب محض بڑی تنخواہوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ایسی ملازمتوں کی تلاش میں ہے جو سماجی طور پر زیادہ سودمند اور اخلاقی بنیادوں پر مضبوط ہوں۔
آنے والے دنوں میں اس بڑھتی ہوئی خلیج کا ٹیکنالوجی کی دنیا پر کیا اثر پڑے گا، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن یہ واضح ہے کہ نوجوان نسل اور ٹیک انڈسٹری کے سربراہوں کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ اگر یہ کمپنیاں نوجوانوں کے اس اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اپنے طریقہ کار اور رویوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی، ورنہ یہ دوری مزید بڑھ سکتی ہے۔