World
روس میں جنگ مخالف سیاستدان کو 11 سال قید کی سزا
روس کے ممتاز اور نمایاں جنگ مخالف سیاستدان کو فوج کو بدنام کرنے کے الزام میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ملزم نے اس عدالتی فیصلے کو ان کے سیاسی موقف کی وجہ سے دی جانے والی ایک سخت سزا قرار دیا ہے۔
روس میں ایک نمایاں اور معروف جنگ مخالف سیاستدان کو عدالت کی جانب سے گیارہ سال قید کی سخت سزا سنا دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ روس کی فوج کے خلاف مبینہ طور پر بیانات دینے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت صادر کیا گیا ہے۔ اس مقدمے نے بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کے حلقوں کی توجہ مبذول کرائی ہے جہاں اسے سیاسی جبر کی ایک اور کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاستدان کا یہ مؤقف ملک کی مسلح افواج کے خلاف ہے اور اس سے جنگی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ تاہم، سزا یافتہ سیاستدان نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان تمام کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کو عدالت میں چیلنج کرنے اور اپنے سیاسی موقف پر ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور اس فیصلے کو ظالمانہ قرار دیا۔
روس میں حالیہ برسوں کے دوران حکومتی پالیسیوں اور یوکرین تنازع کے خلاف آواز اٹھانے والی سیاسی شخصیات کے خلاف سخت قانونی شکنجہ کسا گیا ہے۔ اس حالیہ عدالتی فیصلے کو اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد ملک کے اندر موجود حزب اختلاف کی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس نوعیت کے فیصلوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔