LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی رکن پارلیمنٹ کووید قرضوں کی تحقیقات پر معطل

News Image
برطانوی لیبر پارٹی نے ایک رکن پارلیمنٹ کو کورونا وائرس کے دوران حاصل کردہ سرکاری قرضوں کے معاملے پر تحقیقات شروع ہونے کے بعد معطل کر دیا۔ معطل ہونے والے رہنما نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے وبا کے دوران دو قرضے لیے تھے لیکن رقم واپس نہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
برطانوی سیاست میں ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب لیبر پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ کو کووید کے دوران لیے گئے سرکاری قرضوں کے معاملے پر تحقیقات کے بعد معطل کر دیا گیا۔ پارٹی کی طرف سے یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب موصوف کے مالی معاملات اور وبائی امراض کے دوران سرکاری امداد کے حصول پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس کارروائی کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ خود حکمران جماعت کے اندر بھی اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ معطل ہونے والے رکن پارلیمنٹ نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی انتہائی مشکل وبائی صورتحال کے دوران دو ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے چلنے والے قرضے حاصل کیے تھے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر سختی سے زور دیا ہے کہ ان کا ارادہ کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ وہ اس رقم کو واپس نہ کریں یا حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام تر قرضے ضابطے کے مطابق لیے گئے تھے اور وہ تحقیقاتی عمل میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آ سکے۔ دوسری جانب، لیبر پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی میں شفافیت اور اعلیٰ اخلاقی معیار کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اسی اصول کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک مکمل تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک متعلقہ رکن کو معطل رکھا جائے گا تاکہ شفافیت پر کوئی آنچ نہ آئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید طول پکڑ سکتا ہے کیونکہ برطانوی حکومت کووید کے دوران دیے جانے والے فنڈز اور ان کے استعمال پر پہلے ہی سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔ عوام اور اپوزیشن جماعتیں بھی اس بات کا مطالبہ کر رہی ہیں کہ سرکاری فنڈز میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو سختی سے نمٹا جائے۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس پورے معاملے میں مزید کیا قانونی اور سیاسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔