World
امریکہ سعودی فضائی حملہ عراق اور مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال
امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ فضائی کارروائی کے دوران عراق میں ایران سے وابستہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس تازہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب کی مسلح افواج نے عراق میں ایران کے حامی عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا مشترکہ فضائی آپریشن کیا ہے۔ یہ کارروائی حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے کیونکہ دونوںممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکی اور سعودی فوجی حکام کے مطابق یہ درست نشانہ بنانے والے فضائی حملے تھے جن کا مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کے ان عناصر کو سبق سکھانا تھا جو مبینہ طور پر خطے میں امریکی مفادات اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے تھے۔ گزشتہ بہتر گھنٹوں کے دوران تیس سے زائد فضائی ڈرون حملوں کے بعد اتحادی افواج کی جانب سے یہ ایک طاقتور ردعمل سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان اہم ملاقات بھی منعقد ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی آمنے سامنے ملاقات ہے جس میں خطے کی سکیورٹی اور ایران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے۔ اس اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمی کے باوجود مشرق وسطیٰ میں زمینی حقائق انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں اور خلیجی خطے میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا وقفہ اب ختم ہو چکا ہے۔
اس کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز کو روکا ہے اور اس اہم تجارتی راستے پر ان کا مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ عالمی طاقتیں اس بات پر پریشان ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جس سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے اس نازک موڑ پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن زمینی سطح پر امن کی بحالی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے بھی اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کے بجائے دہشت گردی کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ امریکہ، سعودی عرب اور ایران کے مابین عسکری محاذ آرائی کس سمت جاتی ہے اور آیا بین الاقوامی برادری اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔