AI
اے آئی کا مستقبل اور کینسر کا علاج: انتھروپک کے سی ای او کا بیان
انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیریو اموڈے کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے سائنسی میدان میں بڑے کارنامے سرانجام دینے ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کو دراصل کینسر جیسے موذی مرض کا علاج دریافت کرکے اپنی افادیت ثابت کرنا ہوگی۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیریو اموڈے نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو عام لوگوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانے اور عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے محض دعووں کے بجائے عملی طور پر بڑے سائنسی مسائل حل کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک اے آئی انسانیت کے لیے حقیقی اور ٹھوس فوائد لے کر نہیں آتی، اس وقت تک معاشرے میں اس کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ڈیریو اموڈے نے ایک حالیہ انٹرویو اور مباحثے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے طبی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ ان کے مطابق، اگر مصنوعی ذہانت واقعی عوام کی نظروں میں مقبول ہونا چاہتی ہے اور اپنی اہمیت منوانا چاہتی ہے، تو اسے آگے بڑھ کر کینسر جیسے مہلک اور جان لیوا مرض کا حقیقی علاج تلاش کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔
اموڈے کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس وقت بہت زیادہ ہیجان اور مارکیٹنگ پائی جاتی ہے، لیکن عام انسان اس وقت متاثر ہوگا جب اے آئی کی بدولت حقیقی دنیا کے مسائل حل ہوں گے۔ طبی تحقیق، نئی دواؤں کی تیاری اور بیماریوں کے خاتمے میں مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس ٹیکنالوجی کو معاشرے میں دائمی اور مثبت پذیرائی دلوا سکتا ہے۔