LIVE
Loading Breaking News...

ٹائٹن کے حالات اور کیمسٹری کے اصولوں کی خلاف ورزی

News Image
سائنسدانوں نے لیبارٹری میں زحل کے چاند ٹائٹن کے انتہائی سرد حالات پیدا کرکے مشاہدہ کیا کہ قطبی ہائیڈروجن سائینائیڈ نے غیر قطبی ہائیڈروکاربنز کو اپنے کرسٹل ڈھانچے میں جذب کر لیا۔ منفی 179 ڈگری سینٹی گریڈ کی اس انتہائی سردی میں ہونے والے اس انکشاف نے کیمسٹری کے روایتی اصولوں کو چیلنج کر دیا ہے۔
ماہرینِ فلکیات اور کیمسیا دانوں نے زحل کے پراسرار چاند ٹائٹن کے ماحول کو لیبارٹری میں دوبارہ تخلیق کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس تجربے کے دوران سائنسدانوں نے ایک ایسے انوکھے عمل کا مشاہدہ کیا جس نے کیمسٹری کے صدیوں پرانے بنیادی اصول کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عام طور پر کیمسٹری کا اصول یہ کہتا ہے کہ قطبی اور غیر قطبی مالیکیولز آپس میں حل نہیں ہوتے اور نہ ہی ایک جیسے کرسٹل بناتے ہیں، لیکن ٹائٹن کی انتہائی سرد فضا میں ایسا ہی ہوتا دکھائی دیا۔ تجربے کے مطابق، منفی 179 ڈگری سینٹی گریڈ کے انتہائی منجمد درجہ حرارت پر ٹائٹن کے سطح پر پائی جانے والی انتہائی قطبی گیس ہائیڈروجن سائینائیڈ نے غیر قطبی ہائیڈروکاربنز یعنی میتھین اور ایتھین کو اپنے کرسٹل ڈھانچے میں باقاعدہ جگہ دے دی اور مستحکم کرسٹل تشکیل دیے۔ رامن اسپیکٹرا اور جدید کرسٹل ماڈلنگ کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اس عمل میں ایتھین ٹائٹن کی سطح پر اس کارروائی کے لیے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر ابھری ہے۔ یہ نئی سائنسی تحقیق اس بات کو سمجھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی کہ ہمارے نظام شمسی کے بیرونی حصوں اور بالخصوص ٹائٹن جیسے پراسرار چاندوں پر مادے کس طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ ٹائٹن پر میتھین اور ایتھین کے سمندر اور بارشیں موجود ہیں، اور اس چاند کی فضا نامیاتی کیمسٹری سے مالا مال ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے انوکھے کیمیائی تعاملات کائنات میں زندگی کے ابتدائی آثار یا اس کے اجزاء کو سمجھنے کے لیے نئے دریچے وا کرتے ہیں۔ محققین اب مزید تجربات کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ جانچا جا सके کہ اس طرح کے کرسٹل سسٹمز ٹائٹن کی پوری سطح پر کس پیمانے پر موجود ہیں اور ان کا وہاں کے موسمیاتی اور ارضیاتی چکر پر کیا اثر پڑتا ہے۔ خلائی تحقیق کے میدان میں یہ دریافت ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے بھی راہیں ہموار کرے گی۔