World
صومالی فوج کی بائیدوا میں باغی جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی
صومالی فوج نے ملک کے اہم شہر بائیدوا میں باغی جنگجوؤں کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی ہے۔ شدید جھڑپوں اور دھماکوں کے نتیجے میں دونوں جانب سے جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
صومالیہ کے اہم شہر بائیدوا میں سکیورٹی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان اقتدار اور کنٹرول کے حصول کے لیے انتہائی شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، لڑائی کے دوران فریقین کی جانب سے جدید ہتھیاروں کے علاوہ دھماکا خیز مواد کا بھی کھلے عام استعمال کیا گیا، جس سے پورےعلاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ صومالی قومی فوج نے بروقت حکمت عملی اپناتے ہوئے باغیوں کے اس بڑے حملے کو ناکام بنایا اور شہر کے اہم تنصیبات کا دفاع کیا۔ لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا جب نامعلوم باغی جنگجوؤں نے بائیدوا میں سکیورٹی چوکیوں اور سرکاری عمارتوں پر بیک وقت متعدد سمتوں سے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ حملے کی کوشش کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس خونی تصادم کے نتیجے میں فریقین کے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جن میں عام شہری بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ صومالی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جوانوں نے عسکریت پسندوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور شہر کے بیشتر حصوں پر اب حکومتی فورسز کا مکمل کنٹرول بحال ہے۔ تاہم، شہر کے کچھ نچلے اور بیرونی علاقوں میں تاحال وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد نے محفوظ مقامات کی جانب ہجرت شروع کر دی ہے۔
صومالیہ طویل عرصے سے اندرونی کشمکش اور عسکریت پسندی کا شکار رہا ہے، اور بائیدوا جیسے کلیدی شہروں پر کنٹرول حاصل کرنا دونوں فریقین کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ملک میں امن و امان کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی بھی توجہ مبذول کرائی ہے، جو جنگ زدہ ملک میں استحکام اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ صومالی حکومت اور اتحادی افواج نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے طول و عرض سے دہشت گردوں اور باغیوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو مزید الرٹ کر دیا گیا ہے اور بائیدوا میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔