LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کا خاتمہ اور اس کی وجوہات

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اس کے دستخط ہونے کے ایک ماہ کے اندر ہی ختم ہو گئی تھی۔ فریقین کے درمیان سیز فائر کے باوجود حملوں کا تبادلہ جاری رہا جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ختم قرار دیا۔
واشنگٹن اور تہران کے سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر شدید کشیدگی کا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اپنی طبعی مدت پوری کیے بغیر ہی ختم ہو گئی ہے۔ اس معاہدے کے خاتمے نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشمکش میں ایک نیا باب کھول دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ فریقین کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے طے کیا گیا تھا مگر یہ انتہائی قلیل مدت میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے محض ایک ماہ کے اندر ہی اسے 'ختم' قرار دے دیا تھا۔ معاہدے کے بنیادی مقاصد میں فریقین کے درمیان محاذ آرائی کو روکنا اور ایک عارضی جنگ بندی کو یقینی بنانا شامل تھا، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نکلے۔ دونوں اطراف سے مسلسل ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور حملوں کا سلسلہ جاری رہا جس نے معاہدے کی روح کو شدید نقصان پہنچایا اور بالآخر یہ سفارتی کوشش دم توڑ گئی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ فریقین کے درمیان پائیدار اعتماد کا فقدان اور متشدد ردعمل تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر کشمکش کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن بنیادی نوعیت کے تنازعات اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضا برقرار رہنے کی وجہ سے یہ معاہدہ زیادہ دیر تک زندہ نہ رہ سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ان حملوں نے سفارتی کوششوں کو بری طرح متاثر کیا اور بات چیت کے دروازے ایک بار پھر بند ہو گئے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے خاتمے کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مزید تلخی آ سکتی ہے۔ خطے میں پہلے ہی سے موجود کشیدگی میں اس واقعے کے بعد مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔