Technology
AI Slop Effects on Kids: ماہرین کی مصنوعی ذہانت کے مواد پر تشویش
ٹیکنالوجی اور نفسیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کردہ بے ہودہ اور غیر معیاری ویڈیوز کا بڑھتا ہوا رجحان ان کی ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے بچوں کی ذہنی حالت پر اس منفی مواد کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
نکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق، جدید سائنسی اور تکنیکی دور میں جہاں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) انسانی زندگی کے کئی شعبوں میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس اور ماہرین کی تحقیقات کے مطابق، انٹرنیٹ پر بچوں کے لیے تیار کی جانے والی اے آئی ویڈیوز اور غیر معیاری مواد کی بھرمار نے ماہرینِ نفسیات اور والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسکرین کے عادی ہوتے ہوئے بچوں کے سامنے جب اس طرح کا مواد آتا ہے، تو ان کی فکری صلاحیتوں پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد، جسے عام طور پر 'اے آئی سلپ' کہا جاتا ہے، بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مجروح کر رہا ہے۔ اس طرح کی ویڈیوز اکثر بغیر کسی منطق اور مثبت مقصد کے تیار کی جاتی ہیں، جو دیکھنے میں تو بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں لیکن ان کے اندر جارحانہ رویے اور غلط رجحانات کو فروغ دیتی ہیں۔ بچوں کی کم عمر ذہن سازی کے مراحل میں اس نوعیت کا مواد ان کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین اور والدین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس صورتحال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس بات کا سختی سے محاسبہ کرنا چاہیے کہ وہ پلیٹ فارمز پر کس قسم کا مواد دکھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ انٹرنیٹ پر جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ تعمیری اور ان کی عمر کے مطابق ہو۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف تکنیکی حل کافی نہیں ہیں، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکولوں، والدین اور میڈیا کو مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جس کے ذریعے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ان خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مستقبل کے معماروں کو اسکرین ایڈکشن اور غیر معیاری مواد کے منفی اثرات سے بچانا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔