World
ایران اور امریکہ کشیدگی: تہران کی جانب سے سخت ردعمل کی تنبیہ
تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے طے شدہ معاہدے کی پاسداری نہ کی تو وہ خلیج فارس میں اپنے اقدامات تیز کر دے گا۔ ایران اور عمان کے درمیان ہرمزٹریٹ سے متعلق حالیہ پیش رفت کے تناظر میں خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تہران: ایران نے ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے آنے والے چند ہفتوں کے اندر طے پانے والے سفارتی معاہدے کا مکمل احترام نہ کیا تو وہ خطے میں اپنی جوابی کارروائیوں کو وسعت دینے پر مجبور ہوگا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے محدود وقت کے لیے کھلے ہیں اور اگر اس دوران خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو تہران کے پاس عسکری اور دفاعی میدان میں سخت اقدامات اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز کے معاملات پر خطے کے ممالک کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی خلیج کی صورتحال اور خطے میں ہونے والے دفاعی معاہدوں پر تبصرے کیے گئے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے، اور آئندہ چند ہفتے خطے کے امن کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے تنازع کو روکا جا سکے۔ تہران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ بات چیت نے بھی بین الاقوامی سطح پر مبصرین کی توجہ مبذول کرائی ہے، کیونکہ اسٹریٹجک لحاظ سے اس سمندری راستے کی اہمیت دنیا بھر کی معیشت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔