LIVE
Loading Breaking News...

شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش واپسی کا اعلان اور جان کو لاحق خطرات

News Image
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے ملک واپس آنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے ایک بار پھر ملک میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ وطن واپسی پر ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سیاسی منظر نامے میں جاری ہلچل اور تناؤ کے درمیان ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، شیخ حسینہ کے اس اعلان سے ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام اور اپنے کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گی اور جلد ہی اپنے وطن واپس جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں معلوم ہے کہ واپسی کی صورت میں ان کی جان کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور عوام کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش بدستور جاری ہے۔ عبوری حکومت اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی طرح طرح کے چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ شیخ حسینہ کے حامی اور مخالفین دونوں ہی اس بیان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس سے آنے والے دنوں میں ملک کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بنگلہ دیش کے سیاسی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو بات چیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی اور اس سے جڑے سکیورٹی خدشات آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست کا ایک اہم موضوع بنے رہیں گے۔