LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا پہلا زرعی بائیوچار پلانٹ نارتھمبریا یونیورسٹی کی زیر قیادت

News Image
برطانیہ کی نارتھمبریا یونیورسٹی پاکستان میں زرعی فضلے سے توانائی بنانے کے پہلے مکمل پراجیکٹ کی قیادت کر رہی ہے۔ اس منصوبے سے دیہی خواتین کو آمدنی حاصل ہوگی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔
برطانیہ کی معروف نارتھمبریا یونیورسٹی نے پاکستان میں زرعی فضلے کو کارآمد بنانے اور اس سے توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پراجیکٹ کی قیادت سنبھال لی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک میں پہلا مکمل پیمانے پر زرعی بائیوچار اور بائیو کوئل پلانٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد زراعت کے فضلے کو ٹھکانے لگانا اور اسے قیمتی توانائی میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ توانائی کے حصول کے لیے ایک نیا اور پائیدار ذریعہ بھی فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت دیہی علاقوں میں خواتین کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ پراجیکٹ کے تحت دیہی خواتین کو اس پورے عمل میں کلیدی کردار دیا گیا ہے، جو زرعی فضلے کے انتظام اور بائیو کوئل کی تیاری کے ذریعے اپنے لیے معمعارِ زندگی بہتر کرنے کا ذریعہ پائیں گی۔ اس سے قبل دیہی علاقوں میں اس قسم کے فضلے کو ضائع کرنے کے لیے عام طور پر جلا دیا جاتا تھا جس سے شدید نوعیت کی فضائی آلودگی پھیلتی تھی۔ اب اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف اس فضلے کا بہترین استعمال ممکن ہو سکے گا بلکہ اس سے کارآمد کوئلہ اور زرعی زمین کے لیے فائدہ مند بائیوچار بھی تیار کیا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان میں پائیدار توانائی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نارتھمبریا یونیورسٹی کے ماہرین اس پراجیکٹ کی تکنیکی معاونت اور نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مقامی کسانوں اور برادریوں کو اس سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کامیاب تجربے کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس طرز کے مزید منصوبے شروع کیے جائیں گے، جو ماحول دوست توانائی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔