World
صومالیہ کے شہر بیدوا میں حکومتی اور اپوزیشن فورسز کا مسلح تصادم
صومالیہ کے شہر بیدوا میں وفاقی فوج اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے مابین شدید جھڑپیں پھوٹ پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی حکام اور سکیورٹی ذرائع اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے۔
صومالیہ کے اہم شہر بیدوا میں اتوار کے روز وفاقی فوج کے دستوں اور مسلح اپوزیشن گروپوں کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہو گئیں، جن میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ دونوں فریقین کے مابین اس اچانک تصادم کے باعث پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے اور عام شہریوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، فائرنگ کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں اور شہر کے کئی حصوں میں معمول کی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صومالیہ میں سیاسی اور عسکری استحکام کے حوالے سے پہلے ہی چیلنجز درپیش ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ جھڑپیں اس وقت پھوٹ پڑیں جب سکیورٹی فورسز اور مخالف دھڑوں کے درمیان کسی بات پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فی الحال اس تصادم کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں، تاہم امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے مورچہ بندی کی اطلاعات ہیں اور فضا انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے، جس سے امن مذاکرات کی کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور علاقائی تنظیمیں صومالیہ میں جاری اس تازہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے مسائل کا حل صرف اور صرف بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیونکہ اس قسم کی مسلح جھڑپیں ملک کو مزید تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ صومالی حکومت اور اتحادی فورسز کی کوشش ہے کہ جلد از جلد صورتحال پر قابو پایا جائے تاکہ بیدوا میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے اور مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔