World
جیرڈ کُشنر کا دورہ مشرق وسطیٰ اور غزہ امن منصوبے پر تحفظات
امریکی ایلچی جیرڈ کُشنر نے غزہ سے متعلق اپنے 15 نکاتی روڈ میپ پر بات چیت کے لیے مصر میں حماس کے رہنماؤں اور اسرائیل کے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔ اس نئے امریکی امن منصوبے کے حوالے سے فریقین کی جانب سے سخت تحفظات اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے داماد اور سینئر مشیر و ایلچی جیرڈ کُشنر نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران غزہ کے تنازع کے حل کے لیے پیش کیے جانے والے 15 نکاتی روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مصر میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات کی جبکہ مقبوضہ علاقے اور اسرائیل کے دیگر حکام کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو سے بھی بات چیت کی۔ اس دورے کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔ تاہم اس تمام سفارتی سرگرمی کے باوجود فریقین کی جانب سے اس امن منصوبے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی حلقوں اور حماس کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینیوں کے بنیادی مطالبات اور حقوق کو نظر انداز کیے جانے کا خدشہ ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی قیادت بھی اس حوالے سے اپنے سکیورٹی خدشات اور تحفظات رکھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان پائے جانے والے اس طویل المدتی عدم اعتماد کی فضا میں کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی امن منصوبے کی کامیابی انتہائی کٹھن دکھائی دیتی ہے۔ ماضی میں بھی خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کئی کوششیں کی جا چکی ہیں جو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں، اور اس تازہ ترین 15 نکاتی روڈ میپ کو بھی ایک مشکل سفارتی امتحان کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ سفارتی کوششیں دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔