LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی وزیراعظم برنہم مصنوعی ذہانت کے دھوکے کا شکار

News Image
برطانیہ کے وزیراعظم برنہم کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے نقال کی طرف سے دھوکہ دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف بی آئی نے خبردار کیا ہے کہ بدخواہ عناصر سینئر حکومتی عہدیداروں کی نقل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جہاں برطانوی وزیراعظم برنہم کو وائٹ ہاؤس کے ایک نقال کی جانب سے دھوکہ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے نے دنیا بھر کے حکومتی ایوانوں میں صف ماتم بچھا دی ہے اور سیکیورٹی اداروں کو چوکنا کر دیا ہے۔ جدید دور میں مصنوعی ذہانت کی ترقی جتنی مفید ثابت ہو رہی ہے، اتنی ہی خطرناک شکل بھی اختیار کرتی جا رہی ہے جس کا اندازہ اس تازہ واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ امریکی فی بی آئی (ایف بی آئی) نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بدخواہ عناصر یعنی 'میلشیس ایکٹرز' مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال کر کے دنیا بھر کے اہم ترین حکومتی عہدیداروں اور رہنماؤں کی ہو بہو نقل تیار کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کی آواز اور شکل کو اس مہارت سے نقالی کیا جا سکتا ہے کہ اصلی اور نقلی کا فرق کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے سائبر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حملے نہ صرف سیاسی شخصیات بلکہ عالمی سطح پر معاشی اور سفارتی تعلقات کے لیے بھی ایک بہت بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایف بی آئی اور دیگر عالمی تحقیقی ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس واقعے کے پیچھے کون لوگ ملوث ہیں اور اس سے کس نوعیت کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے بھی اس سنگین سیکیورٹی خامی کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے دھوکے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتیں اور ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جدید ترین سیکیورٹی حل متعارف نہیں کرواتے تو عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی بحرانم مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔