LIVE
Loading Breaking News...

ڈگلس گیگبی اور نوئل کوسٹیلو کے یادگار واقعات - آئرش ٹائمز

News Image
آئرش ٹائمز کے لیجنڈری ایڈیٹر ڈگلس گیگبی کو اخبار چھوڑے ہوئے چالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ نوئل کوسٹیلو نے ان کے ساتھ اپنے پرانے اور یادگار تجربات کو ایک بار پھر تازہ کیا ہے۔
آئرش ٹائمز کے لیجنڈری ایڈیٹر ڈگلس گیگبی کو اس اخبار سے رخصت ہوئے پورے چالیس سال بیت چکے ہیں، لیکن ان کی شخصیت کا رعب اور ان کا اندازِ صحافت اب بھی ان لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے جو اس دور میں وہاں موجود تھے۔ حال ہی میں نوئل کوسٹیلو نے اپنے پرانے ایڈیٹر ڈگلس گیگبی کے ساتھ گزرے ہوئے گرم و سرد ایام کو یاد کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح وہ اس سخت گیر مگر باصلاحیت ایڈیٹر کے دائرہِ اثر میں آئے۔ ڈگلس گیگبی اپنے دور میں ایک ایسے رہنما سمجھے جاتے تھے جو اخبار کے ہر شعبے پر گہری نظر رکھتے تھے اور اپنے ماتحتوں سے بہترین کام لینے کا ہنر جانتے تھے۔ مضمون کے مطابق، اس وقت کے نامور لکھاریوں اور شخصیات کو بھی ڈگلس گیگبی کے غصے اور سخت اصولوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ معروف مصنفہ اور صحافی آنجہانی مئیو بنچی بھی کئی بار ان کے سخت احکامات اور توقعات کی زد میں آ چکی تھیں۔ ڈگلس گیگبی کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ ادارتی امور میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا کمزوری کو برداشت نہیں کرتے تھے، جس کی وجہ سے نیوز روم میں ایک سنسنی خیز اور چوکنا ماحول ہمیشہ طاری رہتا تھا۔ نوئل کوسٹیلو نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح اس دور کا پریشر اور صحافتی چیلنجز ایک نوجوان لکھاری کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ڈگلس گیگبی کا دور آئرش ٹائمز کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے اخبار کو ایک نئی سمت اور بلندی عطا کی۔ ان کے جانے کے بعد بھی نیوز روم میں ان کی روایات اور اصولوں کی بازگشت طویل عرصے تک سنائی دیتی رہی۔ نوئل کوسٹیلو کا یہ تبصرہ نہ صرف ماضی کی یادوں کا احیا ہے بلکہ یہ اس دور کے صحافتی معیار اور محنت کی عکاسی بھی کرتا ہے جب اخبار نویسی کو ایک مقدس مشن سمجھا جاتا تھا۔ آج جب میڈیا انڈسٹری مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے، پرانے دور کے ان سخت مگر اصول پسند ایڈیٹرز کی یادیں اور ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربات آج بھی صحافت کے طالب علموں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔