LIVE
Loading Breaking News...

آسٹرا زینیکا کا پھپھڑوں کے کینسر کی دوا کا ٹرائل معطل

News Image
معروف دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کو اس وقت ایک اور بڑا دھچکا لگا جب اس نے پھپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا 'وولروسٹومگ' (volrustomig) کی کلینیکل ٹرائلز کو روکنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ طبی تحقیق کے دوران سامنے آنے والے نئے حقائق اور ضابطہ کار کے تحت کیا گیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ دوا ساز ادارے آسٹرا زینیکا کو کینسر کے خلاف جنگ میں اس وقت ایک اور بڑا جھٹکا برداشت کرنا پڑا ہے جب کمپنی نے پھپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی دوا 'وولروسٹومگ' (volrustomig) کے کلینیکل ٹرائلز کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت نے دوا سازی کی صنعت اور طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس دوا کو کینسر کے مریضوں کے لیے ایک اہم امید کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ فیصلہ حفاظتی امور اور ریگولیٹری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ مریضوں کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ وولروسٹومگ ایک ایسی دوا ہے جو کینسر کے مریضوں کے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر ٹیومر کے خلاف لڑنے میں مدد دینے کے لیے بنائی جا رہی تھی۔ آسٹرا زینیکا اس دوا کے ذریعے کینسر کے علاج کے طریقہ کار میں نمایاں بہتری لانے کی کوشش کر رہی تھی، تاہم حالیہ طبی تجربات کے دوران درپیش رکاوٹوں اور ڈیٹا کے جائزے کے بعد اس ٹرائل کو روکنا ناگزیر ہو گیا تھا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں کلینیکل ٹرائلز کا تعطل کوئی انوکھی بات نہیں ہے، لیکن اس نوعیت کے بڑے منصوبوں کا رکنا کمپنی کے مستقبل کے اہداف اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ آسٹرا زینیکا کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مریضوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ متعلقہ طبی حکام کے ساتھ مل کر اس پورے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق، ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ مکمل ہونے کے بعد ہی اس ٹرائل کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا کہ آیا اس تحقیق کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس واقعے کے بعد آسٹرا زینیکا کے شیئر ہولڈرز اور طبی برادری کی نظریں اب کمپنی کی آئندہ کی رپورٹس پر مرکوز ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کینسر کی اس دوا کا مستقبل کیا ہوگا۔