Education
قانونی تعلیم اور ٹیکنالوجی: سی جے آئی کا اہم بیان
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ قانونی تعلیم کو محض ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے کے بجائے اس کی قیادت کرنی چاہیے۔ انہوں نے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ عدلیہ اور قانونی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے قانونی تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی شعبے کو ٹیکنالوجی میں ہونے والی جدید تبدیلیوں کے ساتھ صرف مطابقت پیدا کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے خود ٹیکنالوجی کی قیادت کرنی چاہیے۔ موجودہ دور میں جس تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اس کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی اپنے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے وقت میں وکالت اور عدلیہ کا نظام روایتی طریقوں سے ہٹ کر ڈیجیٹل آلات، مصنوعی ذہانت اور جدید سافٹ ویئر پر انحصار کرے گا۔ اس لیے قانون کے طالب علموں کو شروع سے ہی ان جدید رجحانات سے روشناس کرایا جانا چاہیے تاکہ وہ عملی میدان میں آنے کے بعد کسی بھی تکنیکی رکاوٹ کا سامنا نہ کریں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قانون کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ روایتی تعلیم کے دائرہ کار سے نکل کر مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف عدالتی نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ عام سائلین کو بھی کم وقت میں انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔