LIVE
Loading Breaking News...

فوڈ ڈیلیوری رائڈرز کی ابتر حالت اور غیر قانونی خیمہ بستیاں

News Image
ڈیلیورُو، جسٹ ایٹ اور اوبر ایٹس جیسی بڑی کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے فوڈ ڈیلیوری رائڈرز غیر قانونی خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان علاقوں میں محنت کشوں کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔
عالمی سطح پر معروف فوڈ ڈیلیوری برانڈز جیسے کہ جسٹ ایٹ، ڈیلیورُو اور اوبر ایٹس کے لیے دن رات خدمات انجام دینے والے ڈلیوری رائڈرز کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ محنت کش کارکنان غیر قانونی طور پر قائم کی گئی خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں زندگی گزارنے کے لیے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ اس صورتحال نے ان بڑی کمپنیوں کے کارپوریٹ ایتھکس اور ملازمین کے حقوق پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ان خیمہ بستیوں میں رہنے والے زیادہ تر افراد تارکین وطن ہیں جو روزگار کی تلاش میں ان ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ڈیلیوری کا کام کرنے کے باوجود ان کی آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ مہنگے شہروں میں مناسب رہائش کا کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ نتیجتاً، وہ نامساعد حالات میں عارضی اور غیر قانونی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں نہ تو پانی کا کوئی معتبر نظام ہے اور نہ ہی صفائی ستھرائی کے بنیادی انتظامات موجود ہیں۔ یہ صورتحال ان کٹھن حالات کو بھی بے نقاب کرتی ہے جن کا سامنا گگ اکانومی سے وابستہ ان لاکھوں ورکرز کو کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ صارفین ایک کلک پر اپنے گھروں پر کھانا منگوا لیتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ یہ آرڈر پہنچانے والے افراد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے ورکرز کی فلاح و بہبود اور مناسب رہائش کے لیے عملی اقدامات کریں۔