Technology
ہارورڈ پروفیسر کے اے آئی تحریر کردہ مضمون پر تنازع
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو فنانشل ٹائمز کے لیے لکھے گئے مضمون میں اے آئی کا استعمال کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین نے ان کے اس اقدام کو غیر اخلاقی اور معیار سے گرا ہوا قرار دیا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر اس وقت شدید عوامی اور علمی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں جب ان پر یہ انکشاف ہوا کہ فنانشل ٹائمز کے لیے ان کا تحریر کردہ ٹرمپ مخالف مضمون تقریباً مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد تعلیمی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ایک ماہر تعلیم کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ٹیکنالوجی کا اس حد تک سہارا لینا چاہیے جو کہ علمی دیانتداری کے اصولوں کے منافی ہو۔ ناقدین نے اس مضمون کو 'سب سے بدترین کوڑا' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لکھاری کی اپنی سوچ اور تحقیق کی عکاسی نہیں کرتا۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب قارئین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مضمون کی زبان اور ساخت میں مصنوعی ذہانت کی واضح جھلکیاں دیکھی۔ فنانشل ٹائمز جیسے باوقار اشاعتی ادارے کے لیے لکھے گئے اس مضمون کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں اے آئی کے مخصوص انداز اور تکرار موجود تھی، جو کسی انسانی مصنف کی تحریر سے بالکل مختلف محسوس ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس واقعے کو 'علمی دیوالیہ پن' سے تعبیر کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو اپنے پروفیسر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ علمی معیارات کو برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کا بے جا استعمال تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر رہا ہے۔ اگرچہ اے آئی لکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن سیاسی رائے یا تجزیاتی مضمون جیسے حساس موضوعات پر اس کا مکمل انحصار کرنا اخلاقی طور پر غلط ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علمی دنیا میں 'ہیومن ٹچ' اور ذاتی بصیرت کی اہمیت بدستور قائم ہے، جسے مشین کبھی بھی مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتی۔ پروفیسر کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم علمی حلقوں میں یہ واقعہ ایک طویل عرصے تک زیر بحث رہے گا۔