LIVE
Loading Breaking News...

آئی کلاؤڈ پرائیویٹ ریلے سیکیورٹی لیکس اور صارفین کی پرائیویسی

News Image
ایپل کے آئی کلاؤڈ پرائیویٹ ریلے فیچر میں سیکیورٹی خامیاں پائی گئی ہیں جو صارفین کے اصلی آئی پی ایڈریس کو ویب سائٹس پر ظاہر کر سکتی ہیں۔ ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی آن لائن پرائیویسی کے حوالے سے محتاط رہیں۔
ایپل کی جانب سے اپنے آئی کلاؤڈ پلس صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا فیچر 'پرائیویٹ ریلے' (Private Relay) اب ایک نئے تنازعہ کی زد میں آ گیا ہے۔ یہ فیچر بنیادی طور پر اس لیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ سفاری براؤزر استعمال کرنے والے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو پوشیدہ رکھا جا سکے اور ویب سائٹس کو ان کا اصلی آئی پی (IP) ایڈریس دیکھنے سے روکا جا سکے۔ تاہم حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس نے اس فیچر کی سیکیورٹی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں موجود تکنیکی نقائص صارفین کے اصل آئی پی ایڈریس کو لیک کر سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب نیٹ ورک کنکشن میں کسی قسم کی رکاوٹ آتی ہے یا براؤزر کی سیٹنگز میں کوئی خاص تبدیلی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پرائیویٹ ریلے کا پروٹوکول غیر فعال ہو جاتا ہے اور صارف کا اصلی ایڈریس ویب سرورز تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ ایپل نے ہمیشہ سے صارفین کی رازداری کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے لیکن اس طرح کی سیکیورٹی لیکس صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ سیکیورٹی محققین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تکنیکی خرابی برقرار رہتی ہے تو ہیکرز اور ایڈورٹائزنگ کمپنیاں صارفین کو ٹریک کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ صارفین کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی ڈیوائس کی سیکیورٹی سیٹنگز کو باقاعدگی سے چیک کریں۔ اگرچہ ایپل اپنے سسٹم کو اپ ڈیٹ کر کے اس طرح کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جب تک کوئی حتمی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ جاری نہیں کیا جاتا، صارفین کو احتیاط برتنی چاہیے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حساس کاموں کے لیے اضافی وی پی این (VPN) کا استعمال یا سفاری کی پرائیویسی سیٹنگز کو دوبارہ ترتیب دینا وقتی طور پر بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ ایپل کی طرف سے اس معاملے پر باضابطہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں ایپل کو اپنے پرائیویٹ ریلے نیٹ ورک کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی تاکہ صارفین کا ڈیٹا محفوظ رہ سکے۔ پرائیویسی کے متوالے جو آئی کلاؤڈ پلس کے لیے اضافی رقم ادا کرتے ہیں، وہ اس طرح کی خامیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سیکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے یہ ایک اہم لمحہ ہے جہاں کمپنیوں کو اپنے دعووں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید شفافیت دکھانی ہو گی۔