Business
ٹو وہیلر انڈسٹری اور بی ایس 7 اخراج کے نئے معیارات کا تنازع
بھارت کی بڑی دو پہیہ گاڑیوں کی کمپنیاں بی ایس 7 کے نئے اور سخت اخراج کے اصولوں کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا موقف ہے کہ سڑک پر اخراج کی پیمائش کے لیے درکار بھاری آلات کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
بھارت کی آٹوموبائل انڈسٹری میں اس وقت ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جس میں دو پہیہ (2W) گاڑیوں کی معروف مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے بی ایس 7 (BS7) مرحلے کے تحت 'ریل ڈرائیونگ ایمیشن' (RDE) کے فوری نفاذ پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اندرونی بات چیت کے دوران، ان کمپنیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فی الحال لاگو کیے جانے والے معیارات ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے مزید بہتری کے متقاضی ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر اخراج کی پیمائش کرنے والے آلات اتنے بھاری ہیں کہ وہ خود گاڑی کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اخراج کی غلط ریڈنگ سامنے آ سکتی ہے۔
صنعت کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ گاڑیوں پر ان بھاری سینسرز اور آلات کو نصب کرنے سے گاڑی کا وزن بڑھ جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر فیول کی کھپت اور انجن کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ یہ ایک تکنیکی سقم ہے جس پر حکومت اور ریگولیٹری اداروں کو دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مینوفیکچررز کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو ایسے ضوابط نافذ کرنے سے قبل صنعت کو مناسب وقت دینا چاہیے تاکہ وہ ان بھاری آلات کے متبادل کے طور پر ہلکے اور زیادہ درست سینسرز کی تیاری یا ان کے حصول کو ممکن بنا سکیں۔
اگر یہ سخت قوانین فوری طور پر نافذ کیے جاتے ہیں، تو اس کا اثر براہ راست عام خریدار پر پڑے گا۔ گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہونے سے موٹر سائیکل اور اسکوٹر کی قیمتوں میں مزید تیزی آئے گی، جس سے پہلے ہی مہنگائی کی زد میں آئے ہوئے خریداروں کی قوت خرید متاثر ہوگی۔ کمپنیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ حکومتی حکام کو صنعت کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کرنی چاہیے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی استحکام کے درمیان ایک متوازن راستہ نکالا جا سکے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ معاملہ کافی اہم ہے کیونکہ بھارت اپنی گاڑیوں کے اخراج کو بین الاقوامی معیارات کے ہم پلہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلے انڈسٹری کی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات کو کس طرح سنتی ہے اور کیا بی ایس 7 کے نفاذ کے لیے کوئی نرم اور قابل عمل ٹائم لائن دی جاتی ہے یا نہیں۔